11 اکتوبر 2010 - 20:30

سعودی شیڈو پرنس بندر بن سلطان جو آل سعود کی سیکورٹی اور جاسوسی ایجنسیوں کا خاص چہرہ تصور کئے جاتے ہیں ـ پیچیدہ انداز میں لاپتہ ہوگئے ہیں لیکن عالمی ذرائع ابلاغ نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عرب ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ بندر بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود آخر بار 10 دسمبر 2008 کو جدہ میں سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملتا ہوئےا دکھائی دیئےتھے اور اس کے بعد کہیں بھی نظر نہیں آئے ہیں۔سعودی ذرائع نے ستمبر 2009 میں اعلان کیا تھا کہ بندر بن سلطان کو مزید چار سال کی مدت کے لئے سعودی قومی سیکورٹی ادارے کے سیکریٹری کے طور پر تعینات کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد وہ شاہی خاندان کے معمول کے مطابق بادشاہ کے ساتھ بیعت کے لئے حاضر نہیں ہوئے اور ان کی غیر حاضری اور عدم بیعت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ برطانوی روزنامے انڈپنڈنٹ نے مارچ 2009 میں اعلان کیا کہ "بندر بن سلطان طویل عرصے سے عوامی مقامات پر حاضر نہیں ہو‏ئے ہیں۔ اس خبر کی اشاعت کے بعد افواہیں گردش کرنے لگیں کہ گویا بندر بن سلطان اپنے بیمار والد سلطان بن عبدالعزیز کی جگہ سعودی عرب کے ولی عہد بننے کی کوششوںمیں مصروف ہیں اور عبداللہ کے بعد سعودی عرب کا بادشاہ بننے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ بندر بن سلطان کی گمشدگی کا سعودی ولی عہدی کے منصب کے اوپر سعودی شہزادوں کے جھگڑوں سے براہ راست تعلق ہے کیونکہ بندر بن سلطان بادشاہت کے اصلی ترین مدعیوں میں سے ایک ہیں اور امریکہ ان کا زبردست حامی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق والد کی بیماری کے پیش نظر ان کی گمشدگی تشویشناک امر ہے اور خاص بات یہ ہے کہ بندر بن سلطان نائف بن عبدالعزیز کی ولیعہدی قطعی ہوجانے کے فورا بعد سے لاپتہ ہوگئے ہیں۔ لندن میں مقیم سعودی شاہی خاندان کے مخالف اور اسلامی تحریک اصلاح کے سربراہ "سعدالفقیہ" نے اس سلسلے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندر بن سلطان ایک بار لندن میں ہی لاپتہ ہوئے لیکن تھوڑا عرصہ بعد سعودی عرب لوٹ گئے اور تھوڑی مدت بعد معلوم ہوا کہ بندر بن سلطان نے سعودی سیکورٹی اداروں کے 200 اہلکاروں کو عبداللہ بن عبدالعزیز کے خلاف بغاوت پر اکسایا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں نظر بند ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف سے سعودی عرب کی اپوزیشن نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ بندر بن سلطان جدہ کے شمال مغرب میں واقع ایک جیل میں محبوس ہیں اور یہ جیل دہشت گردی کے اقدامات میں ملوث افراد اور سیاسی مخالفین کے لئے مخصوص ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بندر بن سلطان فوج، رائل گارڈز، نیشنل گارڈز اور اندرونی سلامتی کے ادارے کے چار جرنیلوں کے ہمراہ جیل کے ایک خاص حصے میں بند ہیں۔ تاہم بندر بن سلطان کے وکیل نے مخالفین کے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "بن سلطان بیرون ملک دیکھے گئے ہیں" تاہم وکیل نے ان کی رہائش کا مقام بتانے سے گریز کیا۔ بعض ذرائع نے کہا تھا کہ بندر بن سلطان ـ عبداللہ بن عبدالعزیز کی منظوری کے بغیر ـ شام کے اندرونی امور میں بے جا مداخلت کی وجہ سے سعودی بادشاہ کے عتاب کا شکار ہوگئے ہیں۔ ادھر بعض علاقائی حلقوں نے حال ہی میں دعوی کیا ہے کہ بندر شام چلے گئے ہیں اور شام میں بیٹھ کر ـ سنجیدگی کے ساتھ ـ علاقے میں فعال دہشت گرد ٹولوں کی سرپرستی کررہے ہیں۔ البتہ خطے کے امور کے مبصر "انیس نقاش" نے شام میں ان کی موجودگی کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ بات درست ہو تو یقیناً انہیں شامی حکومت کی حمایت حاصل نہیں ہے اور وہ خفیہ طور پر اس ملک میں داخل ہوگئے ہیں اور خفیہ طور پر اس ملک میں سرگرم ہیں۔ ایک اور نیم سرکاری اطلاع کی مطابق بندر بن سلطان فرانس میں بعض زیر زمین سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ انھوں نے بندر بن سلطان کو فرانس میں دیکھا ہے۔بندر بن سلطان کے مقام رہائش کے بارے میں اختلافات بسیار ہیں لیکن ایک بات عجیب ہے کہ وہ جہاں بھی ہیں امریکی حمایت سے بہرہ مند ہیں اور تیل سمیت بے حد و حساب تجارتی آمدنی سے عراق، پاکستان اور لبنان میں فعال دہشت گردوں کی سرپرستی کررہے ہیں۔ بندر مارچ 1949 کو پیدا ہوئے اور 1983 سے 2005 تک امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر کے منصب پر فائز رہے اور دنیا کے کسی بھی سفیر کو واشنگٹن میں بندر بن سلطان جتنا اثر و رسوخ حاصل نہیں رہا اور سابق امریکی صدر جارج دبلیو بش سے ان کے تعلقات نہایت قریبی تھے۔ عبداللہ بن عبدالعزیز نے 16 اکتوبر 2005 کو انہیں قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کے عنوان سے مقرر کیا۔ بندر بن سلطان شہر طائف میں پیدا ہوئے ہیں اور ان کے والد سلطان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے ولیعہد ہیں جو عرصہ دراز سے بستر مرگ پر پڑے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن میں 23 سالہ سفارت کے دوران انھوں نے نیو کانز اور صہیونی لابیوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے ہیں اور امریکہ کو ان پر اعتماد کامل ہے۔ بندر بن سلطان اور سعودی عرب میں اقتدار کی جنگفہد بن عبدالعزیز کے انتقال کے چند ہی ہفتے  بعد بندر بن سلطان عجیب انداز سے امریکہ چھوڑ کر سعودی عرب میں لوٹ آئے اور کہا گیا کہ وہ نئے بادشاہ کے دور میں اہم منصب حاصل کرنے کے لئے سفارت چھوڑ کر امریکہ سے لوٹ آئے ہیں۔ انیس نقاش کے مطابق انھوں نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش بھی کی جو ناکام رہی اور فہد کی موت کے بعد اقتدار کی جنگ میں بھی وہ مطلوبہ اہداف حاصل نہ کرسکے۔ بندر نے 1985 میں برطانیہ کے ساتھ 80 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کے سودے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب نے برطانیہ سے جدید قسم کے 80 ٹائفوں طیارے خرید لئے تھے جو سعودی عرب نے ابھی تک خفیہ رکھے ہوئے ہیں۔ برطانوی حکومت نے اس سودے کے عوض دو ارب ڈالر کمیشن کے عنوان سے سعودی سفارتخانے کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے اور بندر بن سلطان نے یہ رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کروادی۔اگست 2009 میں فائننشل ٹائمز نے لکھا کہ بندر بن سلطان نے سعودی عرب میں فوجی بغاوت کی کوشش کی ہے۔ اس روزنامے نے لکھا کہ بندر بن سلطان کی بغاوت کی خبر کا تعلق 2008 سے ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بندر بن سلطان کی بغاوت کا مقصد صرف عبداللہ کا تختہ الٹنا ہی نہ تھا بلکہ وہ اس ملک کے نظام حکومت کو ہی تبدیل کرکے اقتدار تک پہنچنا چاہتے تھے۔  اس بغاوت کا انکشاف کرنے والے سعودی ذرائع نے فائننشل ٹائمز سے کہا تھا کہ اس بغاوت کو سب سے پہلے روسی ذرائع نے فاش کیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس بغاوت کی ناکامی کے بعد ریاض ـ ماسکو تعلقات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہ بغاوت ریاض کے فوجی ہوائی اڈے سے شروع ہونی تھی مگر بغاوت کی ناکامی کے بعد بے شمار فوجی جرنیل گرفتار ہوئے ہیں اور بندر بن سلطان کو بھی تنہائی کی زندگی بسر کرنی پڑ رہی ہے۔ بندر بن سلطان کی امریکہ اور صہیونی ریاست کی ساتھ تعلقاتبندر 1983 سے 2005 تک (23 سال کے عرصے) تک امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر رہے۔ اس عرصے میں امریکہ میں پانچ صدور اور دس وزراء خارجہ، 11 قومی سلامتی کے مشیر آئے اور گئے اور امریکی کانگریس نے 16 اجلاس منعقد کئے چنانچہ اس عرصے میں بندر بن سلطان نے امریکہ کے بے شمار سیاسی شخصیات کے ساتھ تعلقات بنائے۔ سعودی امریکی تعلقات میں ان کا کردار ناقابل انکار ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات بحران دوچار ہوئے مگر بندر بن سلطان نے مٹتے ہوئے تعلقات کو سنبھالا دیا اور انھوں نے صہیونی لابیوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات سے فائدہ اٹھا کر امریکیوں کا اعتماد حاصل کیا اور ساتھ ہی البتہ سعودی عرب کی پالیسیاں بھی دگرگون ہوگئیں اور صہیونی ریاست کے ساتھ سعودی بادشاہت کے تعلقات میں بہتری آئی۔ ریپلیکنز، پنٹاگان اور امریکی فوجی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ بندر بن سلطان کے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔بندر بن سلطان کو امریکہ، صہیونی ریاست اور سعودی حکمرانوں کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے نویں صدارتی انتخابات کا کیس بھی سونپا گیا تھا اور اس نے دمشق اور تہران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بش خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات اتنے قریبی تھے کہ انہیں "بندر بش" بھی کہا جاتا ہے اور جیمز بیکر، ڈک چینی اور جنرل کالین پاول کے ساتھ ان کے تعلقات حال یہ تھا کہ بندر بن سلطان امریکی حکومت کا حصہ سمجھے جاتے تھے اور امریکی وزارت خارجہ کی سیکورٹی کی تفصیلات تک بھی انہیں رسائی حاصل تھی۔ بالفاظ دیگر بندر بن سلطان بڑے شیطان کے امین تھے اور باب ووڈ وارڈ نے اپنی کتاب "طرح جملہ" میں انکشاف کیا ہے جارج بش نے عراق پر حملے کے منصوبے پر عملدر آمد سے قبل بندر بن سلطان کو اس منصوبے سے آگاہ کیا تھا اور اس کے بعد انھوں نے امریکی وزراء اور امراء کو مشورے کے لئے بلایا تھا۔ قاہرہ میں امریکی مجلے "ٹائم" کے بیورچیف "اسکاٹ مک لیوڈ" (Scott MacLeod) نے لکھا ہے کہ "اگر ہم کہیں کہ مشرق وسطی کے حوالے سے امریکی پالیسیاں مرتب کرنے میں بندر بن سلطان کا کردار کسی طور بھی کانڈولیزا رائس کے کردار سے کم نہیں ہے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا!!۔ امان کے سیکورٹی اسٹڈیز مرکز کے سربراہ انیس نقاش نے علاقے میں ریاستی دہشت گردی کے مراکز کے درمیان ہماہنگی کے حوالے سے بندر بن سلطان کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ "تین سال قبل اردن کے شہر "العقبہ" میں اردن، صہیونی ریاست اور سعودی عرب کا سہ طرفہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے شرکاء نے خطے میں مزاحمت تحریک کی سرکوبی کے حوالے سے واحد حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ اس اجلاس میں بندر بن سلطان نے سعودی مندوب کے طور پر حصہ لیا تھا"۔بندر اور مزاحمت تحریک سے دشمنیامریکی نیوکانز اور صہیونی لابیوں کے ساتھ قریبی تعلقات کی بنا پر ہے بندر بن سلطان خطے میں اسلامی مزاحمت تحریک کے شدید دشمن تصور کئے جاتے ہیں اور وہ امریکہ اور صہیونی ریاست کی جانب سے علاقے پر تسلط جمانے کے خواب بھی دیکھتے رہتے ہیں۔

بندر بن سلطان القاعده کا حقیقی سرغنہعراقی نیوز ویب سائٹ "براثا" نے بھی حال ہی میں ایک دستاویز شائع کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری بندر بن سلطان ـ جو خطے میں دہشت گرد ٹولوں کی سرپرستی اور انہیں ہتھیاروں اور دیگر وسائل سے لیس کرنے کے انچارج ہیں ـ نے عراق میں القاعدہ کا نیا کمانڈر مقرر کرلیا ہے اور القاعدہ کے دہشت گرد عناصر کو ہتھیار اور کثیر رقم فراہم کی ہے۔ اس دستاویز کے مطابق سعودی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے عراق میں ہلاک ہونے والے القاعدہ کے سرغنوں "ابوعمر البغدادی" اور "ابوایوب المصری" کی جگہ "ابوسلیمان" کو القاعدہ کا کمانڈر مقرر کیا ہے۔ اس دستاویز کے مطابق ابوسلیمان عراق اور سعودی عرب کی دوہری شہریت کا حامل ہے اور قبل ازیں سعودی عرب کے سیکورٹی اداروں میں مصروف کار رہا ہے اور بندر بن سلطان نے القاعدہ کے دہشت گردوں کو ہدایت کی ہے کہ نئے کمانڈر کی اطاعت کریں!بن سلطان نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ عراق میں القاعدہ کو مضبوط بنانے کے لئے اس ٹولے میں شمولیت اختیار کریں۔ انیش نقاش کا کہنا ہے کہ ب